میرے باس نے بولا جھوٹ
سچ سے بھی ہے سچا جھوٹ

چٹے مکھڑوں کی خوبی
جیسی رنگت ویسا جھوٹ

کیوں نہ پوت وکیل بنے
بکتا ہو جب ابا جھوٹ

کھڈے ڈال بزرگی کو
کاروبار میں ہو گا جھوٹ

شیخ طہارت کے قائل
جھوٹ بھی اِن کا ستھرا جھوٹ

لیڈر کی تقریر سُنی
توبہ کتنا جھوٹا جھوٹ

میرا عشق مرا  دہو کہ
تیرا وعدہ تیرا جھوٹ

میک اپ صاف بتاتا ہے
حسن تمہارا پکا جھوٹ

سب کے دل کو لگتا ہے
سچے لوگوں والا جھوٹ

شعر سنے تو چلایا
بول رہا ہے سالا جھوٹ

غیبت کیا کرتے ہو ظفر
شاعر آپ سراپا جھوٹ

Advertisements