بسا اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ ہم جس شخص سے عقیدت رکھتے ہیں‘ فرطِ عقیدت میں اس سے بہت سی ایسی باتیں بھی منسوب کر دیتے ہیں جن کی ہوا بھی اُن کے قریب سے نہیں گزری ہوتی ہے۔ یہی حال ادبی مریدوں کا بھی ہے۔ کلاسیکی شاعروں سے ایسے ایسے شعر بھی منسوب کر دئے گئے ہیں جو خود پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ

میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں

مثلاً عموماً سمجھا جاتا ہے کہ درج ذیل شعر حضرت میر تقی میر کے کمالِ فن کی کارستائی ہے۔

سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹُک روتے روتے سو گیا ہے

اگر عقیدت کا کالا چشمہ اتار دیا جائے تو صورتِحال روزِ روشن کی طرح واضح ہو جائے گی۔ یہ شعر میر صاحب کے دیوان میں محض اس لئے دھر دیا گیا ہے کیونکہ اس میں ان کا تخلص آ گیا ہے حالانکہ اگر کھوپڑی کو کھجایا جائے تو بات کھُل کھُلا جاتی ہے۔ آخر کوئی میر صاحب کو مخاطب کر کے بھی تو شعر کہہ سکتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہ شعر میر صاحب کی والدہ ماجدہ کا ہے۔ بچپن میں ایک مرتبہ ضد میں آ کر خدائے سخن دیر تک روں روں کرتے رہے اور اَسی حالت میں بستر پر ٹک گئے۔ اتنے میں اُن کے دوسرے بہن بھائی کھیلتے ہوئے اُس کمرے کی طرف آن ٹپکے جس پر اُن کی والدہ نے از رہِ تنبیہہ یہ شعر فرمایا تھا۔ ممکن ہے کہ بعد ازاں جب میر صاحب نے شاعری کا ارادہ کیا ہو تو انہوں نے اپنے چکنے پات کو یہ شعر “ابتدائی سرمائے“ کے طور پر عنایت کر دیا ہو۔

اِسی طرح حضرت سودا سے ایک شعر منسوب کیا جاتا ہے۔

یہ جو سودا بکے ہے لایعنی
آپ کرتا ہے درزیء معنی

آپ ہی خدا لگتی کہئے کہ کیا سودا جیسا خود ستائش شخص اپنے آپ کو اس قدر بُرے انداز میں مخاطب کر سکتا ہے؟ یہ طرزِ تخاطب اُن کے کسی ایسے ہمعصر کا ہو سکتا ہے جن سے اُن کی چشمک چلی آ رہی تھی۔ خصوصا سودا اور رسواء کے رقیبوں کا کوئی شمار نہ تھا۔

الطاف حسین حالی کا ایک شعر ہے

حالی نشاطِ نغمہ و مئے ڈہونڈتے ہو اب
آئے ہو وقتِ صبح رہے رات بھر کہاں؟

چونکہ تخاطب کی وجہ سے حالی صاحب کا تخلص اس شعر میں آ گیا تھا اسی باعث عقیدت مندوں نے اسے اُچک لیا ورنہ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ یہ شعر حالی کا نہیں ہے بلکہ اُن کی زوجہ محترمہ کا ہے۔ عنفوانِ شباب میں جب ایک مرتبہ حالی رات گئے دیوار پھلانگ کر اپنے گھر میں داخل ہو رہے تھے تو صحن میں اُن کی بیگم بیلنا سنبھالے ہوئے کھڑی تھی۔ انہوں نے حقوقِ زوجیت کو بروئے کار لاتے ہوئے از راہِ پرسش یہ شعر کہا تھا جسے یار لوگوں نے حالی کے اکاؤنٹ میں ڈیپازٹ کرا دیا۔

میر درد صاحب سے بھی ایک شعر منسوب کیا جاتا ہے۔

ہم کہتے نہ تھے درد میاں چھوڑ یہ باتیں
پائی ناں سزا اور وفا کیجئے اُن سے

کہا جاتا ہے کہ یہ شعر اُن کے ایک ملازم کا تھا جن کو انہوں نے ناصحائی کے منصب پر جزوقتی طور پر رکھا ہوا تھا۔ ۔اکثر جب درد صاحب کو درد اُٹھتا تھا تو یہ صاحب اِسی شعر کی مدد سے ان کی اشک شوئی فرمایا کرتے تھے۔ درد صاحب شعر کی ہئتِ ترکیبی میں کھو جاتے تھے اور یُوں سب کچھ بھول بھال جایا کرتے تھے۔اسی قسم کے اور بھی بے شمار اشعار ہیں جنہیں مغالطے میں مارا گیا ہے۔ کلاسیکی بزرگ شعراء کی عظمت تسلیم لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ تیرے میرے شعر بھی اُن کے نام کر دئے جائیں۔ نقاد حضرات کو چاہئے کہ ایسے تمام اشعار کو گدی دے پکڑ کر اُن کے کھاتوں سے نکال باہر کرنا چاہئے۔ اس ضمن میں فدوی کی خدمات حاضر ہیں۔ یہ عاجز خدا ترسی کے طور پر یہ تمام اشعار گود لینے کے لئے تیار ہے۔

گر قبول افتد زہے عز و شرف

نوٹ:- اس مضمون سے مضمون نگار کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

Advertisements