عدم کے مسافر پلٹتے نہیں
چلے جائیں تو پھر پلٹتے نہیں
کسی کی بھی خاطر پلٹتے نہیں

ہمہ وقت یادوں کی محفل سجے
ہمیں خوں رلاتے رہیں ہر سمے
مگر بہر شاعر پلٹتے نہیں

جہنیں دل سے رخصت نہیں کر سکے
کبھی دل سے ہجرت نہیں کر سکے
وہ پیارے بظاہر پلٹتے نہیں

صدا کوئی اُن کو بلا نہ سکی
اُڑانوں کی مستی میں ہیں آج بھی
کہ مدت سے طائر پلٹتے نہیں

Advertisements