خواہشیں پر فشاں بہت سی ہیں
دھوپ میں تتلیاں بہت سی ہیں

فکرِ تعمیرِ آشیاں ہی سہی
ابر میں بجلیاں بہت سی ہیں

بعض چہرے گواہیاں دیں گے
چاند کی جھلکیاں بہت سی ہیں

خوابناؤں میں ڈوبنے کےلئے
وقت کی کشتیاں بہت سی ہیں

تیرا میرا ہے ایک افسانہ
ہاں مگر سُرخیاں بہت سی ہیں

نہیں دلچسپیاں وقوعے میں
بہرِ معجز بیاں بہت سی ہیں

میری خندہ لبی پہ مت جاؤ
طرز ہائے بیاں بہت سی ہیں

Advertisements