رقیبوں سے ترے کوچے میں مجلس کر کے رہتے ہیں
دماغوں میں خرابی ہو تو سروس کر کے رہتے ہیں

شب ِ وعدہ تو ملنے آ نہیں سکتے مگر پھر بھی
سیاسی لیڈروں والے پرامس کر کے رہتے ہیں

ہماری ٹیم کے لڑکے مسوں کے بن گئے خادم
کہ جو بھی گول کرنا ہو اُسے مس کر کے رہتے ہیں

رکیں تو ہم سا کاہل کوئی دنیا میں نہیں لگتا
چلیں تو منزلِ مقصود کو کس کر کے رہتے ہیں

محبت کی شرارت ہو یا شادی کی حماقت ہو
ہمیں جس کام سے روکے چھٹی حس ، کر کے رہتے ہیں

دلوں کے تخت اپنے لیڈروں کو پیش کرتے ہیں
مگر جب موج میں آئیں تو ڈسمس کر کے رہتے ہیں

بسا اوقات ہم کو نیند آ جاتی ہے گھر میں بھی
بسا اوقات ہم گھر کو بھی آفس کر کے رہتے ہیں

ظفر ہمت نہ ہاریں گے کسی کی لن ترانی سے
ہم ایسے لوگ ہیں جو دیٹ کو دِس کر کے رہتے ہیں

Advertisements