اگر فرمائے جانا ہے یونہی مجھ پر کرم اکثر
ہمارے صبر سے رکھے توقع وہ بھی کم اکثر

ہماری آبلہ پائی کو کتنے خار بخشے گی
دھنک سی جو نظر آتی ہے یہ زیرِ قدم اکثر

ہمیشہ ہم نے جن کے نام اپنی ہر خوشی کی ہے
نجانے کیوں اُسی کے نام پر ملتے ہیں غم اکثر

تری اِتنی بہت سی گفتگو سے بھی نہیں کھلتا
بتا دیتا ہے جو ہم کو تری پلکوں کا خم اکثر

ہماری روح میں جیسے دفیں سی بجنے لگتی ہیں
بلاتا ہے ہمیں اپنی طرف خوابِ عدم اکثر

کبھی ذوقِ سفر نہ مل سکا اِس آگہی پر بھی
ہمیں رستے ملے منزل کو جانے والے کم اکثر

یوں سارے شہر کی گلیاں اداسی سے بھری کب تھیں
اکیلے رہ چکے ہیں آپ سے پہلے بھی ہم اکثر

ظفر تنہائیوں کی ریت پر شبنم بکھرتی ہے
کسی کی خوبصورت یاد میں دیکھا وہ نم اکثر

Advertisements