میرے بیٹے میں کچھ بھی نہیں
تو مرے واسطے ایک لعل ثمیں
ہاں مگر جب پکارے وطن کی زمیں
میرے بیٹے تری ذات کچھ بھی نہیں
اِس سے بڑھ کر نہ ہوں میں تمہارے لئے
اور نہ میری نگاہوں میں وقعت تری
۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے بیٹے ! مرے چاند !! میرے جگر
تیری وقعت اگر ہے تو بس ہے یہی
جب وطن کو ضرورت پڑے
تیرے تن میں کوئی قطرۂ خوں نہ باقی بچے
اِس کی حرمت پہ تو کٹ مرے
اِس کے ماتھے کا جھومر بنے

Advertisements