( ناصر کاظمی مرحوم کی غزل کی پیروڈی )

نئے کپڑے بدل کر دندناؤں اور بال بناؤں مس کے لئے
جب کالج جانے کو نکلے ، کالج تک جاؤں مس کے لئے

وہ چانس پہ تھی تو اُس کے لئے اوروں کی بھی ٹی سی کرتے تھے
اب ایسے ویسے لوگوں کو کیوں باپ بناؤں مس کے لئے

جس روپ کا دل پہ جادو تھا وہ دھوپ میں آ کر بہہ نکلا
بے میک اپ چہرہ دیکھ لیا ، اب کیا للچاؤں مس کے لئے

وعدوں کا تو میں قائل ہی نہیں ، جو آ جائے وہ کل ہی نہیں
الو تو نہیں ہوں میں پھر بھی الو بن جاؤں مس کے لئے

ملتان سدھاری تو پھر کیا ، آباد ہے دنیا کا میلہ
موجود ہیں کتنے اورحسیں ، کیوں روگ لگاؤں مس کے لئے

Advertisements