آنکھوں کو کسی خواب کا تحفہ نہیں ملتا
اِس راکھ میں خفتہ کوئی شعلہ نہیں ملتا

پھرتا ہوں ترے ہجر کی تاریک گلی میں
وہ پل جسے بننا تھا ستارہ، نہیں ملتا

کس خامۂ دوراں نے لکھا تیرا فسانہ
جس میں تھا مرا ذکر وہ حصہ نہیں ملتا

میں ایسے سفر پر بھی نکل پڑتا ہوں اکثر
جو میرے مقدر میں نوشتہ نہیں ملتا

کیا جانے مرا قتل ہوا ہے کہ نہیں ہے
ملتا ہے لہو ، کوئی وقوعہ نہیں ملتا

ناموسِ محبت میں جو رسوا نہ ہوا ہو
اُس شخص کو جینے کا قرینہ نہیں ملتا

ہر شخص تماشائی ہے، ہر شخص تماشہ
آنکھوں کو مگر ذوقِ تماشہ نہیں ملتا

ہاں عہدِ دگر کہ مجھے اِس پر بھی ہے باور
اب تیرے سخن سے ترا لہجہ نہیں ملتا

مل جاتا ہے روکے ہوئے راہ تیری گلی کی
اور ڈھونڈنے نکلیں تو زمانہ نہیں ملتا

اب ترکِ تعلق کا ارادہ جو کیا ہے
مجھ کو در و دیوار میں رستہ نہیں ملتا

Advertisements