آپ یا ہم ہیں کہاں قوال ہیں ، جتنے بھی ہیں
ترجمانِ حضرت اقبال ہیں ، جتنے بھی ہیں

سچ کو سب نے جھوٹ کہنا ہے ، اگر کمزور ہے
جو ہے طاقتور ، ُاسی کے نال ہیں ، جتنے بھی ہیں

مفت میں تو فیرنی پر رال ٹپکاتے نہیں
طالعِ یاراں رہینِ دال ہیں ، جتنے بھی ہیں

اِک ذرا گھربار کے ہو لیجئے پھر دیکھئے
رہ نہ پائیں گے جو سر پر بال ہیں ، جتنے بھی ہیں

ناک اِن سے غیر کی اولاد کیوں پونچھا کرے
تحفتاً میرے دیے رومال ہیں ، جتنے بھی ہیں

روز شیشہ توڑ دیتے ہیں ہمارے ظرف کا
بال بچے جان کا جنجال ہیں ، جتنے بھی ہیں

تو دلہن بننے چلی تھی ایک پنڈی وال کی
تیرے سسرے کس لئے چکوال ، ہیں جتنے بھی ہیں

دیکھنا آخر کو افلاطون بھی پھنس جائے گا
حسن والوں کے سنہرے جال ہیں ، جتنے بھی ہیں

آپ اِن میں سے کسی پر بھی عمل کرتا نہیں
دل لبھاتے یار کے اقوال ہیں ، جتنے بھی ہیں

Advertisements