عکس عالم کے ہمارےآئینوں میں قید تھے
ہم مگر لاحاصلی کے زائچوں میں قید تھے

در تھے ہر دیوار میں لیکن قدم اُٹھتے نہ تھے
ہائے کیسا خوف تھا کن مقتلوں میں قید تھے

کتنی مدت سے نہیں سوئے سحر کی آس میں
جھٹپٹے کا وقت تھا یا ظلمتوں میں قید تھے

عمر بھر چلتے رہے منزل مگر آئی نہیں
جست بھر کے راستے کن فاصلوں میں قید تھے

نیتِ ترکِ مراسم بے سبب کرتے رہے
نام کچھ ایسے بھی تھے جو دھڑکنوں میں قید تھے

واہموں کے کیسے زنداں تھے ہمارے چار سُو
رونقِ محفل تھے اور تنہائیوں میں قید تھے

کیسی کیسی نعمتیں تھیں زندگی کے طشت پر
ہم خدا معلوم کیسے ذائقوں میں قید تھے

Advertisements