دُور کیوں شہر سے بیٹھے ہو اٹھو اور چلو
جو مسائل ہیں اُنہیں فیس کرو اور چلو

روکتے ہیں ترے قدموں کو گماں کے آسیب
اب بھی منزل ہے بہت دور چلو اور چلو

زندگانی کا سفر کم نہیں ہونے والا
عمر کی راکھ کو چہرے پہ ملو اور چلو

مڑ کے دیکھو گے تو پتھر کے بھی ہو سکتے ہو
کسی آواز پہ مت کان دھرو اور چلو

کسی پل کو یونہی قدموں سے لپٹنے تو نہ دو
اپنی آنکھوں میں نئے خواب پرو اور چلو

ہم تو دنیا میں مسافر کی طرح ہیں پیارے
تم بھی کچھ اپنی کہو میری سنو اور چلو

منزلِ جاں سے بھی آگے ہیں بہت سے رستے
خود کو دلدل نہ کرو دیدہ ورو اور چلو

Advertisements