جی ہاں میں ببانگ ِدہل اس جرم کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں بھی کیانی ہوں۔ کیانی اس لئے ہوں کہ جس گھر میں پیدا ہوا ہوں وہاں جتنے افراد تھے وہ سب کے سب کیانی تھے۔ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے اس لئے میں نے بھی کیانی بننے میں عافیت جانی۔ غالبا‘ کہیں سے سُن لیا ہو گا کہ رُوم میں رہو تو رومن بن کر رہو۔

بظاہر میرے کیانی ہونے میں سارا قصور میرا نہیں ہے۔۔۔۔قصور تو یوں بھی میرا نہیں ہے‘ نُور جہاں اور انہی جیسے دیگر قصورواروں کا ہے تاہم اگر میں کیانی ہو ہی گیا ہوں تو میں نے کیانی ہوئے رہنے میں اتنی دیر لگا دی ہے کہ ایکسپائری مدت بھی گزر چکی ہے۔ اب میرا کیانی پن واپس نہیں موڑا جا سکتا۔

میرا کیانی ہونا میری پیدائش کی وجہ سے ہے۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرا ایمان ہے کہ ہم سب کو اللہ نے پیدا کیا ہےچنانچہ یہ فدوی کسی بھی طور اقبال کی طرح شکوہ و جواب شکوہ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ خدا کا شکر ہی ادا کر سکتا ہوں کہ اُس نے مجھے کیانی پیدا کیا ہے۔ وہ اگر زرداریوں کے گھر بھی پیدا کر دیتا تو پھر بھی میں کیا کر سکتا تھا۔ویسے کیانی ہوتا زرداری ہونے سے تو خاصا بہتر ہے۔ اس وقت کیانی اور زرداری دونوں اقتدار کی غلام گردش میں موجود ہیں اور ہر اکھاڑ پچھاڑ کا محور جانے جاتے ہیں لیکن کبھی کیانی کا لطیفہ نہیں سُنا گیالیکن زرداری پر اس قدر لطیفے گھڑے جا چکے ہیں کہ کیا ہی سکھوں اور پٹھانوں پر گھڑے گئے ہوں گے۔ اگر اس قدر لطیفے سکھوں یا پٹھانوں پر تراشے جاتے تو دونوں مارے غیرت کے بالترتیب جمنا دل اور دریائے کابل میں چھلانگ لگا چکے ہوتے۔ تاہم سکھوں اور پٹھانوں کو ذاتی طور پر آصف زرداری کا شکرگزار ہونا چاہئے کہ اُس کی وجہ سے طنز کے تیروں کا رخ اُن سے ہٹ گیا ہے بلکہ اب تو اُن کے کھاتوں سے بھی کئی لطیفے نکال کر زرداری کے ذاتی اکاؤنٹ میں ڈیپازٹ کر دئے گئے ہیں۔

ایں سعادت بزورِ بازو نیست

جیسے میں اپنے کیانی ہونے پر شرماتا ہوں ویسے ہی دوسرے کیانی بھی اس بات پر شرمسار ہیں کہ میں بھی کیانی ہوں۔ اُن کی شرمساری بالکل بجا ہے کیونکہ مجھ میں ایسی کوئی خوبی نہیں پائی جاتی جو کسی کے کیانی ہونے کی بین نشانی سمجھی جاتی ہے۔

کیانیوں کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ بندے کے پُتر نہیں ہیں اور جو انہیں ایسا سمجھتے ہیں انہیں وہ پُتر بنا دیتے ہیں۔ پُتر بنانا ایک پوٹھوہاری روز مرہ ہے جس کا مطلب ہے مزہ چکھانا۔ کیانیوں کو اس کام میں ملکہ حاصل ہے۔ بسا اوقات تو میرے جیسے کیانی میں بھی خون جوش مارنے لگتا ہے کہ کسی کو مزا چکھا دوں لیکن اکثر میں یہ مزا خود ہی چکھ کر نچلا بیٹھ جاتا ہوں۔

کیانی فطرا‘ جھگڑالُو ہے یہی وجہ ہے کہ پاک فوج میں ان کی اکثریت نظر آتی ہے۔ یہ لڑائی کے کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ میرے دوست مرزا طاہر شریف بیگ ولد مرزا شریف بیگ کا کہنا ہے کہ جس طرح چرند پرند صبح سویرے روزی کی تلاش میں نکلتے ہیں اسی طرح کیانی بھی نہار منہ گھر سے کسی ایسے بندے کی تلاش میں نکلتے ہیں جو اُن سے لڑائی پر آمادہ ہو سکے۔ گرمیوں کے موسم میں تو اُن کی یہ جستجو ثمرآور ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس موسم میں تو ہر بندہ کیانی بنا ہوا ہوتا ہے تاہم سردیوں کے موسم میں ایسے بندوں کا خاصا کال ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت شیخ بنی ہوئی ہوتی ہے اس لئے اُسے مطلوبہ بندوں کی سپلائی نہیں ہو پاتی چنانچہ اپنی عادت پوری کرمے کے لئے وہ اپنے ہی منہ پر طمانچہ جھاڑ دیتا ہے اور پھر اپنے آپ سے ہی نبرد آزما ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ آخری حد ہوتی ہے۔ گھر میں اُن کی بیگم تو ہوتی ہی ہے اور یہ خاتون خود بھی اچھی خاصی کیانی ہوتی ہے اس لئے کیانیوں کو خود سے لڑنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

میں نے مندرجہ بالا پیرے میں اپنے دوست طاہر کا تذکرہ کیا ہے اور ان کا پورا نام بمع ولدیت لکھ دیا ہے جو کہ اچھی خاصی خلاف ضابطہ حرکت ہے۔ میدان ظرافت کے موجودہ سرخیل ڈاکٹر محمد یونس بٹ اپنے دوست کے لئے ف۔م۔ کا نام استعمال کرتے رہے ہیں اُن کی دیکھا دیکھی دوسرے لال بجھکڑوں نے بھی حروف تہجی پر چھاپے مارنے شروع کر دئے ہیں۔ اب راقم الحروف کے پاس کوئی حرف نہیں بچا ہے چنانچہ وہ اپنے دوست کے ضمن میں پورا نام استعمال کر رہا ہے۔ بلکہ فدوی چونکہ کیانی بھی ہے اس لئے کسی کی پردہ داری کا بھی قائل نہیں چنانچہ اگر کسی کو متذکرہ دوست کے مزید کوئف درکار ہوئے تو وہ بھی اضافی مندرجات کے ساتھ بخوشی فراہم کر دئے جائیں گے۔

کیانی جس طرح خود ٹیڑھی کھیر ہیں اسی طرح اُن کے گھر میں جو چھوٹی چھوٹی ٹیڑھی کھیر کی رکابیاں ہیں وہ بھی کچھ کم کیانی نہیں ہیں۔ اگر کبھی آپ کا جانا اپنے برخوردار کے اسکول میں ہو اور کسی جگہ اسکول کے بچوں کا جمگھٹا دیکھیں تو پریشان مت ہوئیے گا۔ سمجھ جائیے گا کہ وہاں ضرورکوئی کیانی زادہ کسی دوسرے ہم منصب کیانی زادے سے یا غیر کیانی سے گتھم گتھا ہو گا۔

ویسے کیانیوں کو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی بہت فکر ہوتی ہے چنانچہ تمام کیانیوں کے گھروں میں کیبل کی تار دندناتی پھر رہی ہے۔ گھروں میں کیانی اپنی نودمیدہ آفتوں کو ریسلنگ کے چینل دکھاتے پھر رہے ہوتے ہیں تاکہ اُن کے جنگجُو سپوت ابتدائے آفرینش سے ہی ٹریننگ حاصل کر سکیں۔

میرے دوست کا کہنا ہے کہ کیانی بہت جھوٹے ہوتے ہیں۔ مجھے ثبوت کے طور پر وہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک گھر کے سامنے لے گیا اور گیٹ پر لگی ہوئی نیم پلیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔ اسے دیکھ رہے ہو؟
دیکھ رہا ہوں ۔۔۔۔۔ میں نے منہ بنا کر کہا ۔۔۔۔ کیا ہے اس میں؟
نیم پلیٹ پر لکھا ہوا ہے واحد کیانی ۔۔۔۔۔ دُو یُو بیلیو اٹ کہ اس گھر میں چار بھائی رہتے ہیں اور چاروں کے چاروں کیانی ہیں۔ ان کے والد نے جھوٹی نیم پلیٹ لگوا رکھی ہے کہ وہ واحد کیانی ہے۔

علامہ اقبال نے کہیں کہا تھا کہ؛

وہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

ہمارے اور آپ کے بڑے کیانی صاحب نے اس شعر کی ماہیت کو جانچا اور درِیار پر ایسے ایسے سجدے کھڑکائے ہیں کہ زرداریوں اور گیلانیوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی اُن کی مدت ملازمت میں تین برسوں کی توسیع کرنی پڑی۔ سب لوگ اُس درِ جاناں سے آشنا ہیں جہاں سے اُن کے سیلوٹوں کی آوازیں آیا کرتی ہیں۔ اور یہ امر بھی اظہر من الشمس ہے کہ اس نوٹیفیکیشن کے اجرا میں اُن کی لیاقت اور قابلیت کا کتنا عمل دخل ہے۔ یہی وہ قابلیت ہے جو ہر جگہ کیانیوں کو مرکزِ نگاہ بنائے رکھتی ہیں اور یہی وہ لیاقت ہے جس سے یہ عاجز بےبہرہ ہے اسی لئے حالات کی سیخوں پر پڑا سڑ رہا ہے۔

تو صاحبو مندرجہ بالا باتوں کے باوجود میں ببانگِ دہل اس جرم کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں بھی کیانی ہوں۔

آخر کو میں کیانی ہی ہوں۔

Advertisements